وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امام مسجد صاحبان کے لیے اعزازیہ کارڈ کی منظوری دیتے ہوئے حساس علاقوں میں کومبنگ آپریشن کے تسلسل اور صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق فروری تک اعزازیہ کارڈ کے اجراء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ ادائیگی کا آغاز یکم جنوری سے ہوگا، تاہم پہلی بار پے آرڈر کے ذریعے رقوم جاری کی جائیں گی، جبکہ یکم فروری سے اعزازیہ کی ادائیگی وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کے ذریعہ کی جائے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔ پنجاب بھر میں باسٹھ ہزار نو سو چورانوے رجسٹریشن فارم وصول ہو چکے ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملک و قوم کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث یا اخلاقی و مالی جرائم میں شامل کسی بھی امام مسجد کا اعزازیہ فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔ صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر ماہ آئمہ کرام کو مدعو کرکے باقاعدہ میٹنگ کا انعقاد کریں، جبکہ حساس علاقوں میں کومبنگ آپریشن جاری رکھنے کی بھی خصوصی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مزید برآں، وزیراعلیٰ نے فورتھ شیڈول میں شامل جرائم پیشہ افراد کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کے تسلسل پر بھی زور دیا۔