کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے سانحے سے متعلق ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا شخص موجود ہے اس وقت تک عمارت کو گرانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی پوری عمارت کو منہدم کیا جائے گا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ گل پلازہ میں پانچویں روز بھی ریسکیو اور سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے، جبکہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ملبے سے ملنے والی لاشوں کی شناخت کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جا سکے تاکہ لواحقین کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو چکی ہے، جبکہ ملبے سے نکالے گئے 17 افراد کی شناخت ابھی باقی ہے۔ اب تک 11 افراد کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 85 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
ڈی سی ساؤتھ کے مطابق 39 لاپتا افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کی عمارت کے اندر کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم عمارت کے کچھ حصے اس قدر خطرناک ہیں کہ وہاں تک فوری رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ جو حصے منہدم ہو چکے ہیں وہاں سے ملبہ ہٹانے کا کام مشینری اور دستی دونوں طریقوں سے کیا جا رہا ہے، لیکن گرے ہوئے حصوں کو اٹھانے میں شدید تکنیکی مشکلات درپیش ہیں۔
جاوید نبی کھوسو نے مزید بتایا کہ عمارت کے اندر اب بھی دھواں اور شدید گرمائش موجود ہے، جس کے باعث کولنگ کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک محفوظ طریقے سے پہنچا جا سکتا ہے وہاں سرچ آپریشن مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی حصوں میں تکنیکی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈی سی ساؤتھ نے کہا کہ لاپتا افراد کی فہرست میں شامل 85 ناموں میں بعض نام دو مرتبہ درج ہو گئے ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی کیونکہ یہ معاملہ انسانی جانوں سے جڑا ہوا ہے، اور اسی لیے آخری لاپتا شخص کے ملنے تک عمارت کو نہیں گرایا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حفاظتی اقدامات کے تحت برابر میں واقع رمپا پلازہ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے رمپا پلازہ کے نقشے اور دیگر متعلقہ دستاویزات طلب کر لی گئی ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔