ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور شدید برفباری کے بعد معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو کر رہ گئے ہیں، جس کے باعث مختلف علاقوں میں آمدورفت، بجلی اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں سنگین مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں شدید برفباری کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں تاحال بحال نہیں ہو سکیں، جس کے نتیجے میں ایک گاؤں کا بیمار شخص بروقت اسپتال نہ پہنچ پانے کے باعث دم توڑ گیا۔ مقامی افراد کے مطابق سڑکوں کی بندش نے طبی سہولیات تک رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
ادھر بلوچستان کے بالائی علاقوں اور پاک افغان سرحدی پٹی میں بھی حالات تشویشناک ہو گئے ہیں۔ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت دیگر علاقوں میں شدید سردی اور برفباری کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
شدید برفباری کے نتیجے میں کئی علاقوں کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جبکہ توبہ اچکزئی اور توبہ کاکڑی سمیت درجنوں دیہات کے مکین گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ راستوں کی بندش کے باعث خوراک اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کنٹرول روم حکام کے مطابق بعض علاقوں میں ریلیف کی فراہمی کے لیے ہیلی کاپٹر ہی واحد مؤثر ذریعہ ہے۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفباری کا سلسلہ رک گیا ہے، تاہم برفانی تودے گرنے کے باعث مرکزی شاہراہ تاوبٹ تک بند ہے، جبکہ نکیال کے 13 دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سوات کے بالائی علاقوں میں بھی رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث مشکلات درپیش ہیں، تاہم انتظامیہ کے مطابق سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے اور حالات معمول پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔