بالی وڈ کے معروف اداکار عمران ہاشمی نے کہا ہے کہ جب ان کے بیٹے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تو ان کی پوری دنیا یکسر بدل کر رہ گئی تھی اور وہ لمحہ ان کی زندگی کے سب سے دردناک اوقات میں سے ایک تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ذہنی اور جذباتی طور پر شدید طور پر متاثر کیا۔
اپنی حالیہ ٹیلی ویژن سیریز ’’تسکری‘‘ کی کامیابی کے حوالے سے خبروں کے دوران عمران ہاشمی کا ایک پرانا انٹرویو سامنے آیا ہے، جس میں 46 سالہ اداکار نے 2014 کو اپنی زندگی کا سب سے کٹھن اور تکلیف دہ دور قرار دیا۔ اسی سال ان کے بیٹے ایان ہاشمی کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، جس نے ان کی زندگی کا رخ یکسر تبدیل کر دیا تھا۔
عمران ہاشمی نے اس انٹرویو میں بتایا کہ اس واقعے کے بعد ان کی تمام تر توجہ کیریئر سے ہٹ کر ایک باپ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں پر مرکوز ہو گئی تھی، کیونکہ اس وقت ان کے لیے سب سے اہم چیز اپنے بیٹے کی زندگی اور صحت تھی۔
یوٹیوبر رنویر الہ بادیہ کے ساتھ گفتگو میں عمران ہاشمی نے کہا تھا کہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ وہ تھا جب 2014 میں ان کا بیٹا شدید بیمار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت کے جذبات کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے کہ وہ دن اور رات کس قدر مشکل تھے۔
اداکار نے بتایا کہ یہ کٹھن دور تقریباً پانچ سال تک جاری رہا اور ان کی زندگی ایک ہی دوپہر میں مکمل طور پر بدل گئی۔ عمران ہاشمی کے مطابق 13 جنوری کو وہ اپنے خاندان کے ساتھ کھانے پر گئے تھے اور اپنے بیٹے کے ساتھ پیزا کھا رہے تھے، اسی دوران پہلی بار یہ بات سامنے آئی جب ان کے بیٹے نے بتایا کہ اس کے پیشاب میں خون آیا ہے۔
عمران ہاشمی نے مزید کہا کہ اگلے تین گھنٹوں کے اندر وہ ایک ڈاکٹر کے پاس پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کو کینسر ہے اور اگلے ہی دن اس کا آپریشن ضروری ہے، جس کے بعد کیموتھراپی کا مرحلہ بھی درپیش ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس خبر نے صرف 12 گھنٹوں کے اندر ان کی پوری دنیا کو الٹ کر رکھ دیا تھا۔