اسلام آباد میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بسوں سے زائرین کو اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کیے گئے اور پھر انہیں قتل کیا جاتا رہا، جو ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی سردار کی مرضی کے خلاف اس کے علاقے میں جلسہ تک کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے درمیان فاصلے کم ہونے چاہئیں اور اس ایوان کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ مضبوط پارلیمنٹ ہی جمہوریت اور مسائل کے حل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی کی گیس پورے پاکستان تک پہنچ گئی ہے لیکن افسوسناک طور پر خود سوئی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں یہ سہولت دستیاب نہیں، جو ایک بنیادی ناانصافی ہے۔
بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف نے کہا کہ دہشت گردی جہاں بھی ہو، وہ خطرناک ہوتی ہے اور اس کا مؤثر سدباب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی عناصر آ کر ہمیں آپس میں لڑاتے ہیں اور موجودہ صورتحال دراصل ہمارا ایک بڑا امتحان ہے۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ہمیں اس مسئلے پر سنجیدگی سے بیٹھ کر غور کرنا ہوگا اور بہترین حل یہی ہے کہ ہم سب مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے راستہ نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش تمام بڑے مسائل کا حل ایک مضبوط، بااختیار اور مؤثر پارلیمنٹ میں ہی موجود ہے۔