ویانا میں عالمی جوہری ادارے نے واضح کیا ہے کہ اب تک کسی ایرانی جوہری تنصیب کے نشانہ بننے یا نقصان پہنچنے کی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ادارے کا یہ مؤقف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں عالمی جوہری ادارے کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایران کی حالیہ صورتحال اور ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران خطے میں کشیدگی کے تناظر میں جوہری تنصیبات کی حفاظت پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی جوہری ادارے کے سربراہ رافیل گراسی نے کہا کہ تاحال کسی ایرانی جوہری تنصیب کو نشانہ بنائے جانے یا نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی جوہری اتھارٹی سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، امید ہے کہ جلد از جلد بات چیت کا مؤثر رابطہ قائم ہو جائے گا۔
رافیل گراسی نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی فوجی کارروائی کے دوران انتہائی احتیاط برتی جائے تاکہ جوہری تنصیبات اور خطے کے امن کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
اجلاس کے دوران عالمی جوہری ادارے میں موجود ایرانی نمائندے سے سوال کیا گیا کہ ایران میں کن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس پر ایرانی نمائندے نے جواب دیا کہ نطنز کی جوہری تنصیب پر حملہ کیا گیا ہے۔