سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے آپریشن غضبُ للحق سے متعلق واضح کیا ہے کہ جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک نہیں کرتی، آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا اور ان کا دورانیہ افغان طالبان کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ زمینی حقائق اور افغان طالبان حکومت کے ٹھوس اقدامات سے مشروط ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور اسے پاکستان کو قابل تصدیق یقین دہانی فراہم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی جلد بازی میں نہیں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو دفاع کے حق کے تحت جائز اہداف ہیں۔
سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق افغان طالبان حکومت اور ان کے بھارتی سرپرست جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ کارروائیاں صرف دہشت گرد عناصر اور ان کے معاونین کے خلاف ہیں۔ پاکستان اندھا دھند کارروائی نہیں کر رہا بلکہ مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جو دہشت گرد لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ پاکستان آپریشن کے خاتمے میں جلد بازی نہیں کرے گا اور سہولت کاروں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایران سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران نے پاکستان کے ردعمل کو سراہا ہے اور چین و روس نے بھی اس کی تائید کی، جبکہ پاکستان نے ایران کے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے اور یہ تاثر کہ پاکستان اگلا ہدف ہو سکتا ہے، بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کر چکا ہے۔
سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ انتشار پھیلانے کی کسی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد اور بہتر حکمرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان رجیم کے 435 کارندے ہلاک اور 630 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 188 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کی جا چکی ہیں۔ افغانستان میں 51 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوست اور جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کو بھی تباہ کیا گیا۔