سندھ کے سینئر وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں 16 مارچ سے 31 مارچ تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے جبکہ سرکاری محکموں میں استعمال ہونے والی تقریباً 60 فیصد گاڑیاں آئندہ دو ماہ کے لیے بند رکھی جائیں گی تاکہ اخراجات میں کمی اور توانائی کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کا مقصد صوبے میں انتظامی اور سماجی شعبوں میں بہتری لانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سندھ ایگریکلچر ویمن ورکرز رولز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین مزدوروں کو مساوی اجرت کے حقوق فراہم کیے جائیں گے اور انہیں زچگی سے متعلق سہولیات بھی مہیا کی جائیں گی تاکہ خواتین کارکنان کو بہتر تحفظ اور سہولتیں حاصل ہو سکیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ طلبہ کی حاضری کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک جدید موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی منظوری دی گئی ہے جس کے ذریعے طلبہ کی حاضری، داخلے اور دیگر تعلیمی ریکارڈ کو باقاعدہ طور پر محفوظ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اسکولوں میں طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کیسز کی شرح کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور تعلیمی نظم و نسق کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
شرجیل میمن کے مطابق یہ نیا نظام آئندہ ایک سال کے اندر سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں میں نافذ کر دیا جائے گا اور اسے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تعلیمی نظام میں ایک اہم اور انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔