پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے امریکا کی جانب سے مذاکرات کی خواہش پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے اعتماد کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر واقعی مذاکرات کی نیت موجود ہے تو خطے میں فوجی کارروائیاں کیوں جاری ہیں، اور کیا مذاکرات کے نام پر وقفہ دراصل نئے حملوں کی تیاری کا حصہ ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب ماضی کا وہ طریقہ کار قبول نہیں کرے گا جس میں پہلے حملہ، پھر جنگ بندی، اس کے بعد مذاکرات اور دوبارہ حملے کیے جاتے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ یہ سلسلہ دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔
رضا امیری مقدم نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا ثالث ممالک امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں، اور عالمی برادری کو غور کرنا چاہیے کہ بار بار وعدہ خلافی کون کر رہا ہے اور معاہدے کیوں ٹوٹتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آیا یہ ایک طے شدہ حکمت عملی ہے یا پھر اعتماد کا سنگین بحران، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔