بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش اور ژالہ باری کے باعث نظام زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے جانی و مالی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے۔
کوئٹہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش نے شہری زندگی کو متاثر کیا، جبکہ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت شمالی علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچہ اور انار کے باغات کو شدید نقصان پہنچا۔
ہرنائی، چمن، قلات، سوراب اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلوں کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں اور کئی گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں، جس سے آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
تحصیل گلستان میں ایک مسافر وین اور ٹرک سیلابی پانی میں بہہ گئے تاہم 12 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ ہرنائی میں گاڑی میں پھنسے افراد نے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی، اسی طرح 6 ٹرک بھی سیلابی ندی میں پھنس گئے۔
بولان اور باجوڑ میں آسمانی بجلی گرنے اور مکان کی چھت گرنے کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے، جس سے صورتحال کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بھکر میں بارش کے باعث کمرے کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہو گیا۔