سری لنکا میں ایسٹرکےموقع پرخودکش دھماکوں کے بعد حکام نے ایک بار پھر جزوی طور پر سوشل میڈیا پر پابندی لگادی۔
تفصیلات کے مطابق سری لنکا میں ایسٹرکےموقع پرخودکش دھماکوں کے بعد سے حالات اب تک کشیدہ ہیں۔ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانےاور دیگرحملوں کے بعد حکام نے ایک بار پھر جزوی طور پر سوشل میڈیا ویب سائٹ، فیس بک ،واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطے کی ایپلیکیشنز پر پابندی لگادی ہے۔
مزید پڑھیں: سری لنکا میں بم دھماکوں کے بعد چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد
خبررساں ایجنسی کےمطابق سری لنکا میں چند روز قبل عیسائیوں نےمساجد پر پتھراؤ، مسلمانوں کی دکانوں اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس نےمشتعل افراد کو منتشر کرنےکیلئےآنسو گیس کے شیل بھی فائر کیےتھے جبکہ ایک دکاندار نےفیس بک پر غصے کا بھی اظہار کیا تھا۔
حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر عائد پابندی اس اقدام کا مقصد کشیدہ حالات کوکنٹرول کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: سری لنکا: بم حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 300 تک پہنچ گئی، 500 افراد زخمی
واضح رہے کہ 6 مئی کو سری لنکا کی حکومت نے سوشل میڈیا فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور انسٹگرام پر عائد عارضی پابندی ہٹا دی تھی۔ جس کی اطلاع پیر کے دن اطلاعات ومواصلات محکمہ نے دی