عالمی سطح پر سفری سہولت کے حوالے سے پاکستان کے پاسپورٹ کی رینکنگ میں کچھ بہتری تو آئی ہے، لیکن یہ اب بھی دنیا کے سب سے کمزور پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں کو صرف 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت میسر ہے، جب کہ خطے کے دیگر ممالک اپنے پاسپورٹس کے ذریعے دنیا بھر میں زیادہ مؤثر رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت 96ویں نمبر پر موجود ہے، جو کہ صومالیہ، یمن، عراق، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے تو بہتر ہے، تاہم عالمی سطح پر یہ درجہ بندی اب بھی خاصی کمزور تصور کی جاتی ہے۔
گزشتہ برس 2024 میں پاکستان کا پاسپورٹ یمن کے ساتھ چوتھے کمزور ترین مقام پر تھا، لہٰذا حالیہ معمولی بہتری کے باوجود پاکستان کے لیے سفری آزادی کی صورتحال خاصی محدود ہے۔
ہینلے انڈیکس دنیا بھر کے 199 پاسپورٹس کا 227 مقامات پر بغیر ویزا رسائی کی بنیاد پر تجزیہ کرتا ہے اور ہر پاسپورٹ کو اس بنیاد پر اسکور دیا جاتا ہے کہ اس کے حامل کتنے ممالک میں پیشگی ویزا کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں داخلے کے لیے ویزا درکار نہ ہو یا ویزا آن ارائیول، ای ٹی اے یا وزیٹر پرمٹ دستیاب ہو، تو اس پاسپورٹ کو ایک پوائنٹ ملتا ہے، بصورت دیگر اسکور صفر تصور ہوتا ہے۔
2025 کی درجہ بندی میں سنگاپور کا پاسپورٹ پہلے نمبر پر ہے، جب کہ جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ متعدد یورپی یونین ممالک تیسرے، چوتھے اور پانچویں درجوں پر موجود ہیں۔
برطانیہ اور امریکا، جو کبھی دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹس کے حامل سمجھے جاتے تھے، اب بالترتیب چھٹے اور دسویں نمبر پر آ چکے ہیں۔
بھارت کی صورتحال میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جس کی رینکنگ گزشتہ چھ ماہ میں 85 سے بڑھ کر 77 ہو گئی ہے۔ سعودی عرب نے بھی ویزا فری رسائی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے پچھلے دس برسوں میں سب سے تیزی سے ترقی کی اور 42ویں سے اٹھ کر آٹھویں نمبر پر آ گیا، جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
اسی طرح چین نے بھی خاطر خواہ بہتری دکھائی ہے، جس نے 2015 میں 94ویں مقام سے چھلانگ لگا کر 60ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، حالانکہ اسے اب بھی شینجن زون میں ویزا فری رسائی حاصل نہیں ہے۔