وفاقی وزارتِ بحری امور نے پیر کے روز پہلی بار ایک بین الاقوامی فیری آپریٹر، سی کیپرز کو فیری سروس لائسنس جاری کر دیا، جو پاکستان کو ایران اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے جوڑنے والے بحری راستوں پر آپریشن کی اجازت دیتا ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی بحری شعبے میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ منظوری لائسنسنگ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد دی گئی ہے جس میں وزارتِ بحری امور، دفاع، خارجہ، داخلہ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور بندرگاہ و جہازرانی کے حکام نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور قومی بحری پالیسی سے ہم آہنگ ہے اور ملک میں بین الاقوامی سطح پر بحری رابطوں کے نئے باب کھولنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ اس فیری لائسنس سے علاقائی رابطوں، مذہبی سیاحت اور سمندری تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے وسیع امکانات پیدا ہوں گے۔
نئی فیری سروس سے ہر سال لاکھوں مسافروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، خصوصاً ان زائرین کو جو ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں جبکہ خلیجی ممالک جانے والے محنت کشوں اور سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک سہل اور موثر آپشن ہوگا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ سروس بری راستوں پر موجود دباؤ کو کم کرے گی اور ہوائی سفر کے مقابلے میں اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائے گی، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مذہبی زائرین کے لیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر فیری سروس کا آغاز کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سےکیا جائے گا، جہاں سے جدید فیری روانہ ہوں گے جنہیں مسافروں کی سہولت، تحفظ اور بنیادی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ مستقبل میں راستوں اور بندرگاہوں کی تعداد میں اضافہ طلب اور باہمی معاہدوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ اقدام پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ، تجارتی لاجسٹکس کی بہتری اور سمندری سیاحت کے فروغ کی حکومتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جو خطے میں پائیدار اور مربوط سمندری نقل و حمل کے نظام کی جانب ایک عملی قدم ہے۔