اسلام آباد — پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارت کی قومی ایئرلائن “ایئر انڈیا” کو شدید آپریشنل بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث ایئر لائن نے دہلی سے واشنگٹن تک کی نان اسٹاپ پرواز یکم ستمبر 2025 سے معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس اچانک فیصلے کے پیچھے دو بڑی وجوہات کارفرما ہیں: بوئنگ 787 طیاروں کی محدود دستیابی اور پاکستان کی جانب سے فضائی حدود پر عائد پابندی۔
یہ پابندی مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے سخت جوابی اقدامات کے تحت نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد شمالی بھارت سے مغربی ممالک جانے والی طویل فاصلے کی پروازوں کا دورانیہ اور آپریشنل لاگت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئر انڈیا سمیت متعدد طویل روٹس پر چلنے والی پروازوں کو متبادل اور طویل راستے اپنانا پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف ایندھن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں بلکہ فلائٹ شیڈول اور آپریشنل منصوبہ بندی میں بھی بڑی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
فضائی شیڈول سے متعلق دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ بندش آئندہ سال کے بڑے حصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے بالآخر بھارت کو اس بات کا عملی اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس کی طویل فاصلے کی فضائی آپریشنز پاکستانی فضائی حدود پر بڑے پیمانے پر انحصار کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مودی حکومت کی جارحانہ اور متکبرانہ پالیسیوں نے نہ صرف بھارت کو سفارتی محاذ پر تنہا کر دیا ہے بلکہ ملکی فضائی صنعت کو بھی عالمی سطح پر شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان اس وقت ایئر انڈیا کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔