چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے شمالی پہاڑی خطے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں بڑے خطرے کی زد میں ہیں، جبکہ اس کے اثرات اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں اب تک 670 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ستمبر کے آخر تک صورتحال معمول پر آجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد ملک بھر میں 80 سے 90 افراد تاحال لاپتہ ہیں جنہیں تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں تباہ کاریاں بڑھ رہی ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور متاثرین تک ضروری امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور صوبائی سطح پر پی ڈی ایم ایز کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے اور وفاقی حکومت قومی ذمہ داری کے تحت اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم کے تحت متاثرہ علاقوں کے بارے میں بروقت ڈیٹا شیئر کیا جا رہا ہے اور متاثرہ خطوں کی بحالی میں وفاقی حکومت بھرپور مدد فراہم کر رہی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں کلاؤڈ برسٹ جیسے خطرناک حالات پیدا ہو رہے ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرین کے نقصانات کے ازالے کی کوششیں کر رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی ممکن ہو سکے۔