گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے، جس میں واقعے کی شفاف، آزادانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گورنر سندھ کی جانب سے یہ اقدام سانحے کے بعد پیدا ہونے والی تشویش اور عوامی مطالبات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
گورنر سندھ کے خط میں کہا گیا ہے کہ 17 جنوری کو گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا، جو ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک واقعہ ہے۔ خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔
کامران ٹیسوری کے مطابق جوڈیشل انکوائری کے ذریعے آگ لگنے کی اصل وجوہات، عمارت میں موجود ممکنہ ریگولیٹری خامیوں اور حفاظتی انتظامات کی صورتحال کو تفصیل سے سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی فرد یا ادارے کی غفلت یا قانونی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کی واضح نشاندہی کی جانی چاہیے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام سے نہ صرف شفاف احتساب ممکن ہو سکے گا بلکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ گورنر سندھ نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ کی نگرانی میں ہونے والی انکوائری سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور قانون کے مطابق انصاف کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ انہوں نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، اور وہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ آخری وقت تک کھڑے رہیں گے۔