پشاور ہائی کورٹ نے وادیٔ تیراہ میں ممکنہ آپریشن سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران تیراہ متاثرین کے لیے فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاکہ متاثرہ آبادی کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں سوال اٹھایا کہ آیا حکومت نے کسی ممکنہ آپریشن کی اجازت اسمبلی سے حاصل کی ہے یا نہیں۔
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔
عدالت نے متاثرین کو امداد کی فراہمی سے متعلق تفصیلی رپورٹ سات دن کے اندر طلب کرتے ہوئے واضح ہدایات جاری کیں کہ تیراہ متاثرین کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے سہولتیں پیدا کی جا سکیں اور انسانی مسائل کا بروقت حل ممکن ہو۔
پشاور ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر وادیٔ تیراہ کے مشیران اور سیکریٹری محکمۂ ریلیف کو بھی طلب کر لیا ہے، تاکہ متاثرین کی امداد اور حکومتی اقدامات سے متعلق مکمل صورتحال عدالت کے سامنے پیش کی جا سکے۔