انڈین آئیڈل کے پہلے سیزن کے فاتح گلوکار ابھیجیت ساونت نے معروف گلوکار اریجیت سنگھ کی جانب سے پلے بیک گلوکاری چھوڑنے کے اعلان کے بعد ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے رکھا ہے۔ ابھیجیت ساونت نے کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں گلوکاروں کا منظم طریقے سے استحصال کیا جاتا ہے اور انہیں ان کی محنت کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اریجیت سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اپنے پیغام میں اریجیت سنگھ نے مداحوں کی طویل عرصے تک ملنے والی محبت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب بطور پلے بیک گلوکار کوئی نیا کام نہیں کریں گے اور اپنے اس سفر کو خوش اسلوبی سے یہیں ختم کر رہے ہیں۔
اریجیت سنگھ کے اس فیصلے کے بعد بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت ساونت نے انڈسٹری کے تلخ حقائق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں یہ سوچ عام ہے کہ گلوکار فلم یا اداکار سے زیادہ نمایاں نہ ہو جائیں، اسی وجہ سے انہیں محدود معاوضہ دیا جاتا ہے، جو اکثر ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہوتا ہے۔
ابھیجیت ساونت کا کہنا تھا کہ گلوکار اس بات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اگر کوئی گانا ان کی آواز میں کسی بڑے اداکار پر فلمایا جائے تو وہ گانا پوری زندگی ان کی شناخت بن جاتا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں مالی طور پر وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر گلوکار پیسے کے بجائے صرف گانا گانے یا کسی خاص پروڈیوسر کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اسی لیے جو بھی معاوضہ پیش کیا جاتا ہے وہ اسے قبول کر لیتے ہیں، کیونکہ اگر وہ انکار کریں تو کوئی اور گلوکار اس موقع کو قبول کر لیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی رویے کے باعث گلوکاروں کا شدید استحصال ہوتا ہے، جس پر شاذ و نادر ہی کھل کر بات کی جاتی ہے، اور اریجیت سنگھ کا پلے بیک سنگنگ چھوڑنے کا فیصلہ اسی دباؤ اور نظام کی ایک واضح مثال ہو سکتا ہے۔