کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں اہم ترامیم کر دی ہیں، جن کے تحت عمارتوں کی منظوری اور تکمیل کے عمل میں فائر سیفٹی کے تقاضوں کو باضابطہ طور پر لازمی جزو بنا دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس بی سی اے کے ریگولیشنز میں کی گئی ترامیم کے بعد فائر سیفٹی اقدامات کو عمارت کے نقشے کی منظوری سے لے کر کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے اجرا تک ہر مرحلے پر لازمی قرار دیا گیا ہے، اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ان تقاضوں کی تکمیل کی تصدیق ضروری ہوگی۔
نئے قواعد کے مطابق پبلک سیل اور صنعتی نوعیت کی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے نظام کیلئے مخصوص زیرِ زمین اور اوور ہیڈ واٹر ٹینکس کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر آگ بجھانے کے اقدامات کیے جا سکیں۔
اس کے علاوہ تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ ڈرائنگز جمع کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ عمارت کے بنیادی نظاموں کی تکنیکی جانچ اور منظوری باقاعدہ طور پر ممکن ہو سکے۔
کمپلیشن پلان کی منظوری کیلئے سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کی این او سیز حاصل کرنا بھی لازمی ہوگا، جبکہ ہر دکان میں کم از کم ایک فائر ایکسٹنگوئشر کی موجودگی یقینی بنانا ضروری قرار دیا گیا ہے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے لیے ہر 400 مربع فٹ رقبے پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر نصب کرنا لازمی ہوگا، جبکہ کمرشل علاقوں میں مجموعی پارکنگ کے علاوہ موٹر سائیکل وزیٹر پارکنگ کی فراہمی بھی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی اور منظم پارکنگ کو فروغ دیا جا سکے۔