کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ایک گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی، جس کے دوران وہاں موجود دہشتگردوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں 4 دہشتگرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے دوران موقع سے کلاشنکوف اور ہینڈ گرینیڈ برآمد کیے گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں جلیل، نیاز اور حمدان شامل ہیں جبکہ چوتھے دہشتگرد کی شناخت کے عمل کو مکمل کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ دہشتگردوں کے چند ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی اور سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق تلاشی کے دوران گھر سے بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا گیا، جسے فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے حوالے کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر پیشہ ورانہ مہارت سے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے حکام نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گھر میں ڈرموں میں آئی ای ڈیز تیار کی جا رہی تھیں۔ گھر سے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹونیٹنگ وائر اور مختلف سرکٹس بھی برآمد کیے گئے جو دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کیے گئے دہشتگردوں سے تفتیش جاری تھی، اور انہی کی نشاندہی پر شاہ لطیف ٹاؤن میں یہ چھاپہ مار کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ڈی آئی جی کے مطابق چھاپے کے دوران گھر میں موجود ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں گرفتار دہشتگرد بھی زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں گھر کے اندر ایک دہشتگرد موقع پر ہلاک ہوا جبکہ زخمی ہونے والے تین دہشتگرد اسپتال منتقل کیے جانے سے قبل ہی دم توڑ گئے۔
ڈی آئی جی اظفر مہیسر نے مزید بتایا کہ گھر سے بارودی مواد کے علاوہ 5 ہینڈ گرینیڈ اور ایک ایس ایم جی بھی برآمد کی گئی ہے، اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔