ڈھاکا: بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور نومنتخب اراکین نے باضابطہ طور پر اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ ہی قانون ساز ادارے کی نئی مدت کا آغاز ہو گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ڈھاکا میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں ملک کے چیف الیکشن کمشنر نے منتخب اراکین سے حلف لیا، اور اس رسمی عمل کے بعد پارلیمنٹ کی نئی مدت باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی۔ تقریب میں سرکاری و سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور آئینی تقاضے مکمل کیے گئے۔
حلف برداری کے بعد ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں آئندہ پارلیمانی حکمت عملی کے تعین میں مصروف ہو گئی ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا، جس میں قائدِ ایوان کے انتخاب سمیت اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اجلاس کو آئندہ پارلیمانی حکمت عملی اور قانون سازی کے ایجنڈے کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ملک کے صدر محمد شہاب الدین مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے نئی کابینہ سے حلف لیں گے۔ اس مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد نئی حکومت باضابطہ طور پر اپنے فرائض سنبھال لے گی اور انتظامی معاملات کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی پارلیمنٹ کو معیشت، گورننس اور عوامی فلاح سے متعلق اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ عوامی توقعات بلند ہیں اور اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ نئی قیادت انتخابی وعدوں کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہے اور ملک کو سیاسی و معاشی استحکام کی سمت میں کیسے آگے بڑھاتی ہے۔