اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ کی شرط پر عائد کی جانے والی کیپٹو پاور لیوی کے نفاذ سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اور حکومت نے اس اقدام کو پاور سیکٹر میں ریلیف فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر ایک ہزار 247 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے لیوی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم پاور سیکٹر کے تمام کیٹگریز کے بجلی صارفین کے لیے ٹیرف میں کمی کرنے پر استعمال کی جائے گی تاکہ عام صارفین کو مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
حکومت نے کیپٹو پاور لیوی کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے منصوبے سے منسلک کیا ہے، جس کے تحت قیمتوں میں مرحلہ وار کمی ممکن بنائی جائے گی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے دسمبر 2025 کے لیے کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔
حکومت نے آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 کے تحت یہ لیوی عائد کی ہے، جبکہ وفاقی کابینہ پہلے ہی اس بات کی منظوری دے چکی ہے کہ کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والا ریلیف براہ راست بجلی صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔