کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک نے شہر میں ای چالان نظام کے نفاذ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ای چالان کا نظام تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد مرحلہ وار نافذ کیا گیا۔
ای چالان کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ میں ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے تفصیلی جواب پیش کیا گیا، جس میں نظام کی قانونی حیثیت اور نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت کی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ای چالان سسٹم کا فیز ون صرف ان سڑکوں پر نافذ کیا گیا ہے جہاں مکمل انفرا اسٹرکچر موجود ہے، جبکہ زیر تعمیر سڑکوں کو اس نظام میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچانا اور نظام کو تدریجی بنیادوں پر مؤثر بنانا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے مزید وضاحت کی کہ 14 روز کے اندر چالان ادا کرنے پر 50 فیصد رعایت دی جا رہی ہے، جبکہ جرمانوں میں ترمیم سندھ حکومت کی جانب سے کی گئی ہے اور اس معاملے میں ٹریفک پولیس کا کوئی کردار نہیں ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ای چالان نظام شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نافذ کیا گیا ہے، اور اگر کسی شہری کو چالان سے متعلق کوئی اعتراض ہو تو وہ متعلقہ ٹریفک کورٹس سے رجوع کر سکتا ہے۔
عدالت نے ای چالان کے خلاف درخواستوں پر مزید سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔