اسلام آباد: پاکستان خطے کے تقریباً تمام ممالک کے مقابلے میں فائیو جی سروسز کے آغاز میں نمایاں طور پر پیچھے رہ گیا ہے، جس کے باعث ملک جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فوائد سے تاحال محروم ہے۔
عالمی سطح پر فائیو جی ٹیکنالوجی کا آغاز 2019 میں ہو چکا تھا، تاہم شدید اسپیکٹرم قلت کے باعث پاکستان اب تک اس جدید سروس کا اجرا نہیں کر سکا۔ خطے میں افغانستان کے سوا کوئی ایسا ملک نہیں جہاں فائیو جی کے حوالے سے پیش رفت نہ ہو، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید واضح ہو جاتی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز موبائل اسپیکٹرم دستیاب ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم تصور کیا جا رہا ہے۔ محدود اسپیکٹرم کی دستیابی فائیو جی سمیت جدید ٹیکنالوجیز کے نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید تشویش کا باعث بنتی ہے جب پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور یہاں بیس کروڑ سے زائد براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں، جو تیز رفتار اور جدید انٹرنیٹ سروسز کے متقاضی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی اے کی جانب سے فراہم کیا جانے والا اسپیکٹرم ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوتا ہے، جسے ٹو جی سے لے کر فائیو جی اور مستقبل میں آنے والی دیگر ٹیکنالوجیز کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم محدود اسپیکٹرم اور فائیو جی ڈیوائسز کی کمی کے باعث عملی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی صرف اسمارٹ فونز تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے انٹرنیٹ آف تھنگز، اسمارٹ سٹیز، خودکار نظام اور صنعتی شعبے میں جدید سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جو معیشت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔