کینیڈا اور آسٹریلیا کے تحقیقی اداروں کی جانب سے کی گئی ایک مشترکہ تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ روزانہ فش آئل سپلیمنٹس کا استعمال دل اور قلبی امراض کے خطرات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مریضوں میں جو گردوں کی ناکامی کے باعث ڈائلائسز کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ڈائلائسز کروانے والے مریض عموماً دل کے شدید امراض کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں، تاہم فش آئل سپلیمنٹس کے باقاعدہ استعمال سے ان خطرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ فش آئل سپلیمنٹس استعمال کرنے والے مریضوں میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دل سے متعلق وجوہات کے باعث ہونے والی اموات کی شرح دیگر مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق فش آئل سپلیمنٹس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ عناصر شریانوں کی سوزش کم کرنے، خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور دل کو شدید قلبی خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ فش آئل سپلیمنٹس نہ صرف دل کی موجودہ بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے بلکہ مریضوں کی مجموعی صحت اور معیارِ زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
تاہم ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج عام صحت مند افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے سپلیمنٹس کا استعمال شروع کرنے سے قبل ہر فرد کو اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے، تاکہ ممکنہ مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق دل کی بیماریوں کے علاج اور روک تھام کے شعبے میں یہ تحقیق ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے اور اس کے نتائج مستقبل میں قلبی امراض کے علاج کے نئے معیارات قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔