بھارتی ریاست آسام سے تعلق رکھنے والے معروف گلوکار اور موسیقار زوبین گارگ کی موت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن سے ابتدائی رپورٹس کی تردید ہوتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اب اس بات کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے کہ زوبین گارگ کی موت اسکوبا ڈائیونگ کے دوران نہیں بلکہ سنگاپور کے جزیرے لازارس کے قریب تیراکی کے دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہوئی۔ اس سے قبل مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی موت اسکوبا ڈائیونگ کے باعث ہوئی تھی، تاہم نئی معلومات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ برس 19 ستمبر کو سنگاپور میں پیش آیا تھا۔ بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران سنگاپور کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ واقعے کے وقت زوبین گارگ نشے کی حالت میں تھے۔
عدالت میں پیش کی گئی گواہی کے مطابق متعدد عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے زوبین کو کشتی کی جانب واپس تیرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد وہ بے ہوش ہو گئے اور پانی میں پیٹ کے بل تیرنے لگے۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں ریسکیو کر کے سی پی آر دی گئی، مگر تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
حکام نے مزید بتایا کہ زوبین گارگ ہائی بلڈ پریشر اور مرگی جیسے امراض میں مبتلا تھے اور انہیں اس نوعیت کا آخری دورہ سال 2024 میں پڑا تھا، جسے بھی تحقیقات میں مدِنظر رکھا گیا۔
سنگاپور پولیس نے اس بات کی واضح تصدیق کی ہے کہ زوبین گارگ کی موت میں کسی قسم کی سازش، غفلت یا مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آیا اور یہ واقعہ ایک حادثہ قرار دیا گیا ہے۔