بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ اپناتے ہوئے 18 کلوگرام وزن کم کیا، تاہم اس غذائی تبدیلی کا بنیادی مقصد وزن گھٹانا نہیں بلکہ شدید اور مسلسل مائیگرین کے مسئلے سے نجات حاصل کرنا تھا۔
عامر خان نے یہ بات اپنی نئی فلم ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس کی تشہیر کے موقع پر بھارتی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزن میں کمی ان کے لیے غیر متوقع تھی اور یہ سب ایک قدرتی عمل کے طور پر سامنے آیا۔
اداکار کے مطابق انہوں نے اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ صرف اپنی مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اختیار کی تھی، تاہم وقت کے ساتھ یہ غذائی معمول ان کے لیے حیران کن طور پر مؤثر ثابت ہوا۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ “یہ سب خود بخود ہو گیا، میں نے یہ ڈائٹ وزن کم کرنے کے لیے نہیں اپنائی تھی بلکہ صحت بہتر بنانے کے لیے لی تھی، اور یہ واقعی میرے لیے جادو کی طرح کام کر گئی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ڈائٹ کے نتیجے میں نہ صرف ان کا وزن نمایاں طور پر کم ہوا بلکہ مائیگرین کے دوروں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی، جس سے ان کے روزمرہ معمولات اور کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی۔
اگرچہ عامر خان نے اپنی مکمل غذائی منصوبہ بندی یا ڈائٹ کی تفصیلات شیئر نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس غذائی تبدیلی کے ان کی صحت پر مثبت، دیرپا اور نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس نے ان کی مجموعی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا۔
اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ کیوں مفید سمجھی جاتی ہے؟
اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ میں عام طور پر تازہ سبزیاں، پھل، ثابت اناج، خشک میوہ جات، بیج اور صحت مند چکنائیاں شامل کی جاتی ہیں، جبکہ پراسیسڈ غذاؤں، سفید چینی، زیادہ کاربوہائیڈریٹس اور ٹرانس فیٹس کے استعمال سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈائٹ جسم میں سوزش کم کرنے اور مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات گھٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔