صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور گل پلازہ میں آگ لگنے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
اتوار کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے رابطہ کیا اور آگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں وفاقی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ امدادی کارروائیاں مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت متاثرین اور سندھ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ گنجان آباد شہری علاقوں میں آگ پر بروقت قابو پانے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر نظام کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک جامع اور مربوط نظام کی تشکیل کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے اس سے قبل بھی گل پلازہ کراچی میں آگ لگنے کے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اداروں کو سندھ حکومت کی مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی تھی، تاکہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور گل پلازہ کراچی میں لگنے والی آگ کی تازہ صورتحال دریافت کی، جس پر 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔ صدرِ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کی کامیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بلا تاخیر بروئے کار لائے جائیں۔
صدر آصف علی زرداری نے شدید آتشزدگی کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان شوکت کی جرات اور شجاعت کو سراہتے ہوئے حکومتِ سندھ کو ہدایت کی کہ انہیں سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو زخمیوں کی فوری اور بہتر طبی نگہداشت، اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی بھی تاکید کی۔
صدرِ مملکت نے حکومتِ سندھ کو فائر سیفٹی قوانین کے مؤثر نفاذ اور تجارتی و رہائشی عمارتوں میں حفاظتی معائنوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ آئندہ ایسے المناک سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم کو صورتحال کا علم ہے، تاہم ان سے ذاتی طور پر اس وقت تک رابطہ نہیں ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور تاجروں کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا جا سکا تھا، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اس واقعے میں اب تک 58 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔