کراچی: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات کو باضابطہ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مشتمل تین کریڈٹ آورز کا لازمی کورس شامل کریں، تاکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
یہ فیصلہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلیمی اور ٹیکنالوجی منظرنامے کے پیش نظر کیا گیا ہے، جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس تعلیم، صحت، معیشت اور طرزِ حکمرانی سمیت مختلف اہم شعبوں میں نمایاں اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے، اور اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
جامعات کے سربراہان کو ارسال کیے گئے خط میں ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ اے آئی کی تعلیم اب محض ایک اضافی سہولت نہیں رہی بلکہ وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، اس لیے طلبہ کو ڈیجیٹل خواندگی، اخلاقی ذمہ داری، ڈیٹا پرائیویسی، شفافیت اور سماجی اثرات جیسے بنیادی اور عملی پہلوؤں کی جامع سمجھ فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ عالمی معیار کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔
خط میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جامعات اس کورس کو بطور اختیاری مضمون، بین الشعبہ جاتی کورس یا پروگرام کے اندر معاون مضمون کے طور پر متعارف کرا سکتی ہیں، تاہم نصاب میں اے آئی کے بنیادی تصورات، مختلف شعبوں میں اس کے عملی اطلاق، اخلاقی تقاضوں، انصاف اور احتساب جیسے اہم موضوعات کو شامل کرنا لازمی ہوگا، جب کہ پروگرام کی نوعیت کے مطابق مواد میں تخصیص کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
ایچ ای سی نے خط میں یہ بھی بتایا کہ یہ کورس تعلیمی سیشن خزاں 2026 سے تمام ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ طور پر نافذ کیا جائے گا، اور اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستانی طلبہ کو اے آئی سے ہم آہنگ عالمی ماحول میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اور قومی معیشت کو بین الاقوامی سطح پر مزید مسابقتی بنانا ہے۔