اکثر افراد لیپ ٹاپ کو گود میں رکھ کر استعمال کرتے ہیں، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ عادت کسی قسم کے جسمانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔ اگرچہ لفظ “لیپ ٹاپ” میں لیپ کا مطلب ہی گود ہے، لیکن طبی ماہرین کے مطابق اس ڈیوائس کو طویل وقت تک گود میں رکھ کر استعمال کرنا مختلف صحت کے مسائل کو جنم دے سکتا ہے یا کم از کم کچھ خطرات ضرور پیدا کر سکتا ہے۔
لیپ ٹاپ سے خارج ہونے والی حرارت کی نکاسی عام طور پر نیچے کی جانب ہوتی ہے، مگر جب اسے گود میں رکھا جاتا ہے تو جسم اس حرارت کے اخراج کو جزوی طور پر روک دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ڈیوائس زیادہ گرم ہو سکتی ہے بلکہ حرارت جسم کے مخصوص حصوں میں جمع ہونے لگتی ہے، جو صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
اسی وجہ سے اکثر کمپنیاں صارفین کو مشورہ دیتی ہیں کہ لیپ ٹاپ کو سخت اور ہموار سطح پر رکھا جائے تاکہ ہوا کا بہاؤ متاثر نہ ہو اور ڈیوائس کی ٹھنڈک برقرار رہے۔ مناسب وینٹی لیشن نہ ہونے کی صورت میں لیپ ٹاپ کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
2016 میں جرنل آف بائیو میڈیکل فزکس اینڈ انجینئرنگ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گود میں لیپ ٹاپ رکھنے سے تولیدی صحت متاثر ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے، خاص طور پر مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ یہ مسئلہ عام طور پر ہر فرد کو متاثر نہیں کرتا، تاہم طویل المدتی اور مسلسل استعمال کی صورت میں اس کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بیشتر برقی آلات، بشمول لیپ ٹاپ، کم فریکوئنسی والی ریڈی ایشن خارج کرتے ہیں جو مردانہ تولیدی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
تولیدی صحت کے علاوہ لیپ ٹاپ کی زیادہ حرارت جلد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ڈیوائس غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے تو یہ ریڈی ایشن کے ممکنہ اثرات سے زیادہ فوری نقصان پہنچا سکتی ہے۔ زیادہ حرارت جلد کو جلا سکتی ہے یا اس کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔
بار بار گرم لیپ ٹاپ کو جلد کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رکھنے سے ایک مخصوص جلدی عارضہ بھی لاحق ہو سکتا ہے، جس میں جلد کی رنگت تبدیل ہو جاتی ہے اور مستقل دھبے پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ماہرین طویل عرصے تک لیپ ٹاپ کو گود میں رکھنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔