وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کیلئے فورس بنانے کی بات تو کرتی ہے، مگر دہشتگردی کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنے سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے اس رویے کو ترجیحات کے تضاد سے تعبیر کیا۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت شہداء کے جنازوں میں شرکت سے بھی اجتناب کرتی ہے، حالانکہ روزانہ پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ترجیح اول اور آخر بنایا گیا ہے جبکہ دیگر معاملات کو غیر اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت اعلیٰ کو بچانے کی سیاست کی جا رہی ہے جبکہ صوبے اور وطن کی سلامتی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسی سیاسی جماعت کی داخلی صورتحال بھی غیر واضح ہے جس کے اندر مختلف دھڑے موجود ہیں اور ان کی تعداد کا درست اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بظاہر سب چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں، جبکہ بیرون ملک موجود یوٹیوبرز اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں اور ارکان ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مختلف گروپوں کے درمیان متعدد اختلافات موجود ہیں، تاہم ایک معاملے پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ بانی پارٹی جیل میں ہی رہیں۔