ایران نے ترکیے کے ایک بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد متعلقہ جہاز کامیابی کے ساتھ اس اہم سمندری گزرگاہ کو عبور کر گیا۔
ترکیے کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوگلو کے مطابق ترکیہ کے اس وقت 15 بحری جہاز خطے میں موجود ہیں جو مختلف سمندری راستوں پر سرگرم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے ان جہازوں میں سے ایک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جس کے بعد وہ بحری جہاز اس راستے کو پار کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور اس خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک فرانس اور اٹلی نے بھی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک خطے میں جنگ کو مزید وسعت دیے بغیر توانائی کی سپلائی کو بحال رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔