مشرقی چین سے تعلق رکھنے والی 102 سالہ خاتون اپنے منفرد طرز زندگی اور حیران کن صحت کے باعث انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی ہیں۔
جن باؤ لینگ چین کے صوبے ژجیانگ کے علاقے تائیژو سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے علاقے میں طویل عمر اور خوش مزاج طبیعت کے باعث خاصی شہرت رکھتی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر 102 سال کی عمر میں بھی وہ ذہنی طور پر انتہائی متحرک اور مستعد ہیں جبکہ جسمانی صحت بھی قابل رشک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں گزشتہ پچاس برسوں میں کبھی اسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ان کے روزمرہ معمولات بھی خاصے دلچسپ ہیں۔ وہ صبح تقریباً 9 بجے بیدار ہوتی ہیں، نہانے کے بعد باغ میں کچھ وقت گزارتی ہیں اور سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔
شام تقریباً 7 بجے وہ سونے کے لیے لیٹ جاتی ہیں جبکہ دن کے دوران کئی مرتبہ چند منٹ کے لیے قیلولہ بھی کرتی ہیں۔
ان کے بیٹے ہو ہوامی کے مطابق ان کی والدہ دن بھر میں تقریباً 15 گھنٹے تک سوتی ہیں۔
102 سالہ خاتون کی خوراک بھی کافی منفرد ہے۔ وہ عموماً دوپہر اور رات کے کھانے میں نوڈلز یا چاول کھاتی ہیں جبکہ انہیں گوشت بھی پسند ہے۔
اس کے علاوہ انہیں کیک اور چائے بھی پسند ہیں جن میں براؤن چینی اور کھجوروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ روزانہ دو انڈے اور تین مالٹے بھی کھاتی ہیں جبکہ سبزیاں انہیں زیادہ پسند نہیں۔
اگرچہ بڑھتی عمر کے باعث ان کی ٹانگوں کے جوڑ پہلے جیسے لچکدار نہیں رہے اور چلنے کے لیے انہیں مدد درکار ہوتی ہے، تاہم ان کی بینائی اب بھی بہت اچھی ہے اور ہاتھ بھی بخوبی کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اب بھی سلائی کا کام کر لیتی ہیں۔