امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2027 کے بجٹ کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کی سفارش کی ہے، جس کے تحت پینٹاگون کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کی درخواست کی گئی ہے، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 4.5 فیصد بنتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بجٹ میں فوجی اخراجات میں 44 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 455 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اس رقم میں گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام، اہم معدنیات میں سرمایہ کاری، امریکی بحری جہاز سازی اور فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافے جیسے منصوبے شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں دفاعی اخراجات گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بڑھتے رہے ہیں، جو سال 2000 میں 320 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 997 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جس سے اس رجحان کی شدت واضح ہوتی ہے۔
دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے دفاعی اخراجات اس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں، جن میں چین کے 317 ارب ڈالر، روس کے 150 ارب ڈالر، جرمنی کے 86 ارب ڈالر اور سعودی عرب کے 79 ارب ڈالر شامل ہیں۔
ٹرمپ کے مجوزہ بجٹ میں غیر دفاعی شعبوں پر 73 ارب ڈالر کی کٹوتی بھی تجویز کی گئی ہے، جس میں صحت، ہاؤسنگ اور تعلیم کے متعدد پروگرام شامل ہیں۔ اس کے تحت زرعی شعبے میں 19 فیصد، ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ میں 13 فیصد اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز میں تقریباً 12 فیصد کمی کی گئی ہے۔
اسی دوران محکمہ انصاف کے لیے فنڈنگ میں 13 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ نیشنل پارک سروس کے لیے 10 ارب ڈالر اور فضائی سلامتی و ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی بھرتی کے لیے 481 ملین ڈالر مختص کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی یہ بجٹ تجاویز دفاعی طاقت میں اضافہ کرنے اور غیر دفاعی اخراجات کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جبکہ امریکا کا قومی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔