وزیراعظم محمد شہباز شریف کامیاب اور اہم نوعیت کے غیر ملکی دوروں کی تکمیل کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ اپنے دورۂ امریکا کے دوران انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، جبکہ مختلف عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان سے بھی علیحدہ علیحدہ نشستیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خطے کی سلامتی اور عالمی تعاون جیسے موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کو پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کی اور اپنے خطاب کے دوران نہ صرف مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا بلکہ فلسطینی عوام کی حالت زار کو بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دونوں مسائل عالمی امن اور انصاف سے جڑے ہوئے ہیں اور دنیا کو ان کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا خطاب پاکستان کے دیرینہ مؤقف اور خارجہ پالیسی کی عکاسی قرار دیا گیا۔
اس سے قبل وزیراعظم نے سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون اور سیکیورٹی پارٹنرشپ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ وطن واپسی پر نور خان ایئر بیس پر وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں حکومت و عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پیش کیا۔