اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا بولتے ہوئے عملے کے ارکان کو حراست میں لے لیا۔ حراست کے بعد عملے کو تفتیش کے لیے منتقل کیا گیا اور کشتی کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
فلوٹیلا میں شامل کئی جہازوں کی لائیو فیڈ اچانک بند کر دی گئی اور متعدد کشتیوں سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔ اس اقدام کے باعث فلوٹیلا کی نقل و حرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کے ارکان کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ وہ جنگی علاقے کے قریب ہیں۔ اسرائیل نے مؤقف اپنایا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ وہ وار زون میں داخل نہ ہوں۔
بدھ کی صبح غزہ کے لیے امداد لے جانے والی اس بین الاقوامی فلوٹیلا نے اطلاع دی تھی کہ جیسے ہی وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ رہے ہیں، ان کے اوپر اسرائیلی ڈرونز کی پروازوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ ہے جس میں 500 سے زیادہ افراد سوار ہیں۔ ان میں پارلیمنٹیرینز، وکلا اور مشہور سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
اس قافلے کا بنیادی مقصد غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنا اور محصور فلسطینیوں تک براہِ راست امداد پہنچانا ہے۔
پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر مشتاق احمد خان نے گزشتہ روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ “ہم غزہ کے قریب پہنچ گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی بحری جہاز ہماری جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔”