وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے شہر باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جس کے دوران ترمیم کے مختلف نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، مصدق ملک، رانا ثنا اللہ، ریاض حسین پیرزادہ، عون چوہدری، شزرہ منصب اور قیصر احمد شیخ سمیت وزیر قانون اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام اہم آئینی پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون نے ترمیم کے مسودے اور پیپلز پارٹی کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق ترمیم کے اہم نکات میں کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم کرنا، وفاقی آئینی عدالت کا قیام، ہائیکورٹس کے ججز کی مشترکہ سینیارٹی لسٹ مرتب کرنا، اور سپریم جوڈیشل کمیشن کو ججز کے تبادلوں کا اختیار دینا شامل ہے۔ ان تجاویز پر اجلاس میں مختلف آراء اور سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔
اسی سلسلے میں سینیٹ کا اجلاس آج ہی بلائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو بطور ضمنی ایجنڈا پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ترمیمی بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کرنے اور پیر تک منظوری کے مراحل مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے پر احتجاج کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔