پاکستان مخالف بھارتی فلم دھریندر کے گرد جاری تنازع کے دوران اداکار اکشے کھنہ کی مرحوم سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فلم کے ٹریلر میں پاکستان کی سیاسی شخصیات، پیپلز پارٹی کی قیادت اور پارٹی جھنڈوں کی غیر منظور شدہ تصاویر اور مناظر شامل کیے جانے پر سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ مختلف آرا کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلم میں استعمال ہونے والی تمام سیاسی تصاویر اور مواد کے لیے باقاعدہ قانونی اجازت حاصل کی جانی چاہیے تھی۔ عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غیر مجاز مواد کے استعمال سے پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف منفی اور گمراہ کن تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دھریندر سے جڑا یہ سوشل میڈیا تنازع دونوں ممالک میں فلمی اثرات اور سیاسی حساسیتوں پر جاری بحث کو مزید تقویت دے رہا ہے، جبکہ شائقین اور ناقدین اپنے اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم نظر آتے ہیں۔ تاہم، وائرل تصویر کے پس منظر اور اس کے حقیقی حقائق تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے کارکن محمد عامر نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فلم کے ڈائریکٹر، پروڈیوسرز اور اداکاروں پر غیر قانونی مواد کے استعمال اور بدنامی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو، پارٹی جھنڈے اور سیاسی جلسوں کی ویڈیوز کو فلم میں شامل کرنے کے لیے قانونی اجازت لازمی تھی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک نایاب پرانی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں سابق پاکستانی کرکٹ کپتان اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ریکھا اور اداکار ونود کھنہ کے ساتھ 1989 میں ایک فلاحی تقریب کے دوران رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اکشے کھنہ کی فلم دھریندر میں دکھایا گیا رقص اپنے والد ونود کھنہ کے اسی انداز سے مشابہت رکھتا ہے، جس سے اس ویڈیو میں دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے مطابق وائرل تصویر نے جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فلم کی ریلیز نے دونوں ممالک میں سیاسی حساسیت کو نمایاں کر دیا ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ دھریندر میں پاکستان کے سیاسی حالات اور پس منظر کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے شخصیات اور عوامی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔