کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ایک لسٹنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او فرخ سبزواری نے کہا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ جنوری میں حاصل کی گئی اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آ چکی ہے، جس کی مختلف معاشی اور سیاسی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی حکمت عملی پر بھی اثر ڈالا ہے۔
فرخ سبزواری نے کہا کہ شرح سود میں کمی اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال براہِ راست مارکیٹ کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کی سمت میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق صورتحال اور مختلف کمپنیوں کے مالی نتائج بھی مارکیٹ کے رجحان کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان عوامل کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ جنوری میں اپنی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہے۔
سی ای او کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری موجودہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کس سمت جائیں گی، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ تبدیلیاں بھی مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔