امریکی ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمیاں جاری رہیں، اور ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزر چکے ہیں، جس سے صورتحال کی پیچیدگی اور عالمی توانائی راستوں کی اہمیت مزید واضح ہو گئی ہے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند نہیں ہو سکی، جبکہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس لوٹا دیا گیا اور کوئی بھی ایرانی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکا۔
امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے نفاذ کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم گزرگاہ کی نگرانی اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں پر لاگو ہیں، جبکہ ایران کے علاوہ خلیج کی دیگر بندرگاہیں بدستور بحری جہازوں کے لیے کھلی ہیں، جس کے باعث عالمی تجارت کا کچھ حصہ متاثر ہونے کے باوجود مکمل طور پر معطل نہیں ہوا۔