امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی محدود یا عارضی نہیں بلکہ ایک جامع اور مؤثر معاہدہ طے پایا جائے، جو طویل مدت کے لیے نتائج کا حامل ہو۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ 49 برسوں میں امریکا اور ایران کے درمیان اس سطح کے مذاکرات نہیں ہوئے، اور اتنے طویل عرصے پر محیط عدم اعتماد کو ایک رات میں ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اس بات سے آگاہ تھی کہ انہیں نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھیجا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کسی چھوٹی ڈیل کے خواہاں نہیں ہیں، اسی وجہ سے اب تک ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، کیونکہ امریکا ایک ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو دیرپا اور جامع ہو۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں بھی اس حوالے سے بات کی تھی کہ اگرچہ کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی تک کوئی جامع معاہدہ ممکن نہیں ہو سکا، اور ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور ریاستی سطح پر دہشت گردی میں ملوث نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہو، اور اس میں ایسے نکات شامل ہوں کہ ایرانی عوام عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں، جبکہ اگر ایران معمول کے راستے پر آتا ہے تو امریکا بھی اس کے ساتھ ایک عام ملک کی طرح اقتصادی تعلقات استوار کرے گا۔
نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں، اور اس مرحلے پر انہیں مثبت پیش رفت کا احساس ہو رہا ہے، جبکہ جنگ بندی بھی برقرار ہے۔