ایران نے حالیہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 270 ارب ڈالر لگاتے ہوئے امریکا اور اسرائیل سے ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا ہے، اور اس معاملے کو نئے مذاکرات سے قبل ایک اہم شرط کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ سفارتی عمل پر اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ نقصانات امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اہم انفراسٹرکچر، معیشت اور تیل کی صنعت کو پہنچے ہیں، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ تخمینہ ابتدائی نوعیت کا ہے اور اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جس کی تفصیلات کا جائزہ ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان نئے مذاکرات کی تیاری بھی جاری ہے، تاہم اس شرط کے باعث بات چیت کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اور آئندہ پیش رفت کا انحصار دونوں فریقین کے مؤقف پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اس مطالبے سے خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، خصوصاً توانائی اور معیشت کے شعبوں پر۔