امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد خاتمے کے اعلان کے بعد عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 8 فیصد کمی کے بعد تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ دوران ٹریڈنگ امریکی خام تیل کی قیمت 89 ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جاری جنگ بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں یہ تنازع اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ری پبلکن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیل سے متعلق بعض پابندیوں کو ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تیل سے متعلق کچھ پابندیاں نرم کر رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی لانے میں مدد مل سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی منڈی میں کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد جی 7 ممالک نے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی۔ تاہم آج امریکی صدر کی جانب سے ایران جنگ کے جلد خاتمے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔