پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، جو بلا تعطل شام 4 بجے تک مکمل کیا جائے گا۔ دونوں صوبوں میں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، جہاں سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر مجموعی طور پر 22 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 7 جنرل، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹ نشستیں شامل ہیں۔ 7 جنرل نشستوں پر 14 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن کے 53 ارکان ہیں۔ 6 نشستیں حکومت اور 5 اپوزیشن کے حصے میں آنے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے 25 ارکان نے حلف اٹھایا، جن میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی نمائندے شامل ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا۔
پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی خالی ہونے والی ایک نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ یہ نشست سینیٹر ساجد میر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔اسمبلی ہال کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے 371 رکنی ایوان میں سے 369 ارکان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے حافظ عبدالکریم، اپوزیشن کی جانب سے مہر عبدالستار جبکہ آزاد امیدوار خدیجہ صدیقی اور اعجاز حسین میدان میں ہیں۔