خیبر پختونخوا میں 40 ارب روپے مالیت کے سولر منصوبے کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کے معاملے میں سنگین بے ضابطگیوں اور قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے بعد اس تقرری پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اقدام قواعد کے مطابق کیا گیا ہے تو الزام لگانے والوں کو اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے سی ای او انوار الحق نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کے لیے انجینئرنگ کی ڈگری اور کم از کم 12 سال کا تجربہ ضروری ہے اور یہ تقرری تمام قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے۔
بارہ مارچ کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے گریڈ 17 کے ایک افسر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا۔ تاہم یہ عہدہ گریڈ 19 کے افسر کے لیے مختص ہونے کے باعث گریڈ 17 کے افسر کی تقرری کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے، خصوصاً اس صورتحال میں جب منصوبے کا پی سی ون تاحال منظور نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کا عہدہ گریڈ 19 کے افسر کے لیے مخصوص ہے جبکہ انجینئر پیر ایمل کی بنیادی پے اسکیل گریڈ 17 ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر پی ای ڈی او بھیجا گیا تھا اور اس سے قبل وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
کچھ حلقوں کی جانب سے سپریم کورٹ سے براہ راست پی ای ڈی او میں ان کی ڈیپوٹیشن کو بھی قواعد کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے جس پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مزید یہ کہ منصوبے کا پی سی ون ابھی تک منظور نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری پہلے ہی کر دی گئی ہے، حالانکہ عام طور پر اس نوعیت کی تقرری اشتہار اور انٹرویو کے باقاعدہ عمل کے بعد کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تقرری پراجیکٹ امپلیمنٹیشن پالیسی 2022 کے چیپٹر چار کے پیراگراف تین “پروسیجر ٹو فل دی پوسٹ” کی ذیلی شق بائیس کی واضح خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔ اس شق کے مطابق تین ارب روپے یا اس سے زائد لاگت کے منصوبوں کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا پے اسکیل بی ایس 19 یا اس سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔