مقبوضہ کشمیر میں کرفیو چوتھے روز بھی نافذ ہے جبکہ بھارتی فوج کی مظاہرین پر فائرنگ سے 6 کشمیری نوجوان شہید اور سو سے زائد زخمی ہوگئے. وادی میں کرفیو کے سبب انٹرنیٹ، ٹیلیفون،اخبارات بند ونے بین القوامی رابطہ منقطع ہے۔
تفصیلات کے مطابق مطابق مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر کاری وار کرکے مودی سرکار نے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں کشمیری احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔
گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کیخلاف کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے۔بھارتی فوج کی مظاہرین پر فائرنگ سے 6 کشمیری نوجوان شہید اور سو سے زائد زخمی ہوگئے ۔کٹھ پتلی انتظامیہ نےکشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے انٹرنیٹ،ٹیلیفون،ریڈیواور اخبارات سب پر پابندی لگاکر حریت قیادت کو بھی جیلوں ڈال دیا ہے۔
واضح رہے کہ تین روز قبل مودی سرکار نے آرٹیکل 35-اے اور 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بعد سے تمام کشمیری رہنما گرفتار، کرفیو نافذ، نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہیں۔