سندھ حکومت نے بورڈ امتحانات میں نقل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف سخت ترین کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ایسے طلبہ کو نہ صرف موجودہ امتحانات سے خارج کیا جائے گا بلکہ آئندہ بھی کسی بورڈ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ اور وزیر جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے مشترکہ بیان میں کہا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کے دوران نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر امتحانی عمل کے دوران کوئی انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا کسی بھی سطح کا انتظامی افسر نقل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عملے کے ملوث ہونے کی صورت میں اسے نوکری سے فارغ بھی کیا جائے گا۔
صوبائی وزرا کے مطابق اگر کسی طالب علم کے پاس موبائل فون یا نقل کا کوئی مواد پایا گیا تو اسے فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کر دیا جائے گا، جبکہ اس کے تمام پرچے بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔
مزید کہا گیا کہ نقل میں ملوث طلبہ کو نہ صرف جاری امتحانات بلکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بورڈ امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزرا نے یہ بھی اعلان کیا کہ امتحانی مراکز پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی مداخلت یا خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
























































































