سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے مذاکرات میں ابتدائی پیش رفت کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی توقع ظاہر نہیں کی جا رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ابتدائی فریم ورک یا جنگ بندی میں توسیع جیسے اقدامات زیر غور ہیں، جو مستقبل میں مزید مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف مذاکرات کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا بلکہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات میں بھی سہولت کاری کی، جسے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
تاہم اس پیش رفت کے باوجود کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہی بنیادی اختلافات کسی بھی حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکراتی ماحول میں نرمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن مجموعی صورتحال اب بھی حساس اور نازک ہے، اور کسی بھی بڑی پیش رفت کے لیے مسلسل اور سنجیدہ سفارت کاری ناگزیر ہوگی۔