ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں وعدے توڑے جانے کے باعث ایرانی عوام امریکا پر اعتماد نہیں کرتے، اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے مطابق ایرانی قوم کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اس تنازعے میں کسی صورت فاتح بن کر سامنے نہیں آئے گا، کیونکہ اس کشیدگی کے نتیجے میں نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ پوری دنیا کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی رجیم اپنے مخصوص عزائم کے حصول کے لیے سرگرم ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی امہ کا اتحاد ان عزائم کو کامیاب ہونے سے روکنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک پر عائد ہوتی ہے، اور اس مقصد کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔























































































