اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی باقاعدہ طور پر نافذ ہونے کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
یہ جنگ بندی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کو اعلان کے بعد عمل میں آئی، جس کے تحت دونوں ممالک نے عارضی طور پر لڑائی روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق اس جنگ بندی کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور ایک مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے، جبکہ اس پیش رفت کا تعلق ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ سے بھی ہے جو اس تنازع میں ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں وقتی سکون کی فضا پیدا ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔























































































